Friday, May 15, 2020

کوئی نہیں کہہ سکتا، کورونا کتنے ماہ مزید چلے گا،عمران خان

ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس سال ویکسین نہیں آئے گی،جس کا مقصد فی الحال کورونا نہیں جائے گا، ہمیں کورونا کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کی وفاقی وزراء کے ہمراہ میڈیا بریفنگ 
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مئی 2020ء - ثنااللہ ناگرہ ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا، کورونا کتنے ماہ مزیدچلے گا،ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس سال ویکسین نہیں آئے گی، اس کا مقصد کورونا جائے گا نہیں، ہمیں کورونا کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا۔انہوں نے وفاقی وزراء کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ آج طبی عملے سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں ،دنیا میں ڈاکٹرز اور نرسز فرنٹ لائن ورکرز ہیں:۔
ڈاکٹرز اور نرسز پر بہت دباؤ بڑھنا تھا، اسی لیے ان کی ایسوسی ایشنز نے بھی ردعمل کا اظہار کیا۔حکومت کو ایک طرف کورونا کو دیکھنا ہے اور پھر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا ہے۔ہم تین ماہ بھی لاک ڈاؤن کردیتے ، کھانا بھی پہنچا دیتے، وسائل بھی خرچ کردیتے، لیکن سب ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس سال ویکسین نہیں آئے گی، اس کا مقصد کورونا جائے گا نہیں'۔
کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وائرس دو یا تین ماہ میں ختم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے باقی دنیا کی طرح اس وائرس کے ساتھ رہنا ہے، وائرس کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہے۔کیا ہم مسلسل لاک ڈاؤن کو افورڈ کرسکتے ہیں۔ ایک مہینہ اور بھی لاک ڈاؤن کرلیں، تو بھی وائرس کے ساتھ رہنا ہوگا۔ امریکا نے 2200ارب ڈالر، جرمنی نے ایک ہزاریوروز،جاپان نے ایک ہزار ارب ڈالرکا پیکج دیا، اس کے مقابلے میں کیا ہم اپنے کاروبار بند کرسکتے ہیں؟میں بتانا چاہتا ہوں کہ رپورٹ کے مطابق 2017-2018ء کے اڑھائی کروڑ ایسے مزدور ہیں جو یومیہ یا ہفتے کی کمائی سے گزارا کرتے ہیں۔لاک ڈاؤن سے ان کی کمائی کا ذریعہ ختم ہوگیا، اس سے 15کروڑ لوگ لاک ڈاؤن سے متاثر ہیں۔ہم نے وہ کام کیے ہیں، جو ابھی ترقی یافتہ ممالک نہیں کرسکے۔ ہم 12ہزار ایک خاندان کیلئے کتنی دیر دے سکتے ہیں؟ عمران خان نے کہا کہ یہ بھی میں واضح کردوں کہ پاکستان میں کیسز بڑھیں گے، روز ہماری ٹیم جائزہ لیتی ہے، کہ وائرس کا پھیلاؤ کس طرف جارہا ہے؟ ہمیں پتا ہے کہ کورونا کے کیسز بڑھیں گے، لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اگر لوگوں کو روزگار نہ دیا تو کورونا سے زیادہ لوگ بھوک سے مرجائیں۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی معیشت کا بچا رہے ہیں لیکن ہم تو اپنے لوگوں کو بھوک سے بچا رہے ہیں_۔

Thursday, May 14, 2020

وزیراعظم نے ٹرانسپورٹ اور دیگر سیکٹرز کھولنے کا عندیہ دے دیا




پنجاب، خیبرپختونخواہ کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے، ٹرانسپورٹ بندش سے عام آدمی اور کاروبار شدید متاثر ہوا، آبادی کو لاک ڈاؤن سے کہیں زیادہ بھوک وافلاس سے خطرہ ہے،لاک ڈاؤن کورونا کا علاج نہیں بلکہ عارضی اقدام ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مئی 2020ء - ثنااللہ ناگرہ ) وزیراعظم عمران خان نے ٹرانسپورٹ اور دیگر سیکٹرز کھولنے کا عندیہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے، ٹرانسپورٹ بندش سے عام آدمی کا کاروبار اور آمدورفت شدید متاثر ہوئی، آبادی کو لاک ڈاؤن سے کہیں زیادہ بھوک وافلاس سے خطرہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کورونا صورتحال اور حکومتی اقدامات سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔
معاون خصوصی ڈاکٹرظفر مرزا نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور متاثرین کے اعدادوشمار پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، حماد اظہر، شبلی فراز، خسرو بختیار، سید فخر امام، عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، عاصم سلیم باجوہ، معید یوسف، چئیرمین این ڈی ایم اے، فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل سمیت دیگر حکام نے شرکت کی`۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلی نے پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق عوام کو درپیش مسائل پر بریفنگ دی۔ دونوں وزراء اعلیٰ نے کہا کہ ٹرانسپورٹ بندش سے عام آدمی کا کاروبار اور آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم کو آٹو موبیلز سیکٹر، موٹرسائیکل مینوفیکچررز اور شاپنگ مالز ایسوسی ایشن کے مطالبات بھی پیش کیے گئے۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ مطالبات کا جائزہ لیا جائے تاکہ اس بارے میں فیصلہ کیا جا سکے_۔
وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے متعلق حکومتی پالیسی نہایت واضح ہے۔ بھوک اور وباء کی روک تھام سے متعلق حفاظتی اقدامات میں توازن رکھنا ہے۔ آبادی کو جتنا خطرہ لاک ڈاؤن سے ہے اس سے کہیں زیادہ بھوک و افلاس ہے۔ ہراس شعبے کو سہولت دی جائے گی جس سےغریب، سفید پوش افراد کے کاروبار وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کورونا کا علاج نہیں بلکہ عارضی اقدام ہے'۔
ہمیں اپنے فیصلے زمینی حقائق اورعوام کی حالت دیکھ کرکرنے ہیں۔ جب تک ہماری معیشت بحال نہیں ہو جاتی، نادار طبقے کی مشکلات بھی بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عوام پر سختی کی بجائے دوستانہ رویہ اختیار کرے۔ حفاظتی تدابیر پر زور زبردستی اختیار کرنے کی بجائے شعور اجاگر کیا جانا چاہیے۔ میڈیا عوام کو حفاظتی تدابیر اور ضوابط پر عمل کی ترغیب میں مزید موثر کردار ادا کرے۔
x

کورونا وائرس: ’پروننگ‘ کیا ہوتی ہے اور کورونا وائرس کے مریضوں کو پیٹ کے بل کیوں لٹایا جاتا ہے؟






Getty Images دنیا میں کووڈ۔19 کے کیسز بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ذہنوں میں ہسپتالوں کی تصاویر بھی نقش ہوئی ہیں۔ لیکن جب ہم انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں مریضوں کو سانس لینے میں مدد کے لیے جدید وینٹیلیٹروں کے ساتھ دیکھتے ہیں تو جو ایک چیز ہمیں بڑی عجیب لگتی ہے وہ یہ ہے کہ کیوں ان میں سے اکثر اپنے پیٹ کے بل الٹے لیٹے ہوئے ہیں۔اس پرانی تکنیک کو 'پروننگ' کہتے ہیں اور سامنے آیا ہے کہ یہ کچھ مریضوں کو جنھیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو مدد دیتی ہے۔ یہ پھیپھڑوں میں زیادہ آکسیجن پہنچانے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن اس تکنیک کے کچھ مسائل بھی ہیں۔ ( bbcBBC )کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟ آکسیجن کے بہاؤ کا بڑھنامریضوں کو اس حالت میں کئی گھنٹے رکھا جا سکتا ہے تاکہ ان کے پھیپھڑوں میں موجود مایہ کو آگے بڑھایا جا سکے جو ان کی سانس لینے میں مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ پرون لاطینی زبان کے لفظ پرونس سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے آگے کی طرف جھکنا۔ اس تکنیک کو ان کووڈ۔19 کے مریضوں پر کافی آزمایا جا رہا ہے جن کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پھیپھڑوں اور انتہائی نگہداشت کی ادویات کے ماہر اسسٹنٹ پروفیسر پناگیس گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ ’اکثر کووڈ۔19 کے مریضوں کے پھیپھڑوں میں مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے انھیں نقصان پہنچتا ہے۔' Getty Images ’اگرچہ انھیں آکسیجن دی جا رہی ہوتی ہے لیکن کئی مرتبہ وہ کافی نہیں ہوتی۔ سو ہم یہ کرتے ہیں کہ انھیں منہ نیچے کر کے معدے کے بل لٹا دیتے ہیں تاکہ ان کے پھیپھڑے پھیل سکیں۔' ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ پھیپھڑوں کے سب سے وزنی حصے ہماری پشت پر ہوتے ہیں، اس لیے جو مریض اوپر کی طرف منہ کر کے لیٹتے ہیں ان کا وزن پشت پر ہوتا ہے اور ان کے لیے ضرورت کے مطابق آکسیجن لینا ذرا مشکل ہوتا ہے۔اس کے برعکس پروننگ کی تکنیک سے آکسیجن کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے اور یہ پھیپھڑوں کے مختلف حصوں کو بھی کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ 'اس سے واضح تبدیلی آ سکتی، ہم نے اس کا اثر کئی مریضوں میں دیکھا ہے۔'مارچ میں عالمی ادارۂ صحت نے ان کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے دن میں 12 سے 16 گھنٹے پروننگ کو تجویز کیا تھا جن کو اکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم (اے آر ڈی ایس) ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ بچوں کے لیے بھی یہ تکنیک استعمال کی جا سکتی ہے لیکن اس کو کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور اضافی ماہرانہ صلاحیت کی ضرورت ہے'۔ Getty Images کووڈ 19 جیسی اے آر ڈی ایس بیماری کے بارہ مریضوں پر امیریکن تھوراسک سوسائٹی کی طرف سے کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ جن مریضوں نے پرون کی حالت میں وقت نہیں گزارا ان کے پھیپھڑوں کی کام کرنے کی صلاحیت دوسروں کی نسبت کمزور تھی۔پیچیدہ تکنیک اگرچہ دیکھنے میں یہ ایک عام سا طریقۂ کار لگتا ہے لیکن پروننگ میں بہت سی ممکنہ پیچیدگیاں بھی ہیں۔ کسی بھی مریض کو اس کے معدے کے بل لٹانے میں وقت لگتا ہے اور اس کے لیے کئی تجربہ کا پروفیشنلز کی ضرورت پڑتی ہے۔ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ 'یہ آسان نہیں ہے۔ اس کو مؤثر طریقے سے کرنے کے لیے چار یا پانچ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔' یہ ان ہسپتالوں کے لیے اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جن میں کووڈ 19 کے مریض تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کے مطابق جان ہاپکنز یونیورسٹی نے کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مدنظر پروننگ کے لیے ایک ٹیم مختص کی ہوئی ہے۔ 'تو اگر کووڈ 19 کے مریض اس انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہوں جہاں عملے کو اس پروسیجر کا تجربہ نہیں ہے تو وہ سپیشلسٹ ٹیم کو بلائیں گے جو مریض کو پرون کی حالت میں لٹائے گی۔'لیکن مریض کی لیٹنے کی حالت بدلنے سے بھی بہت سی پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں,۔ Getty Images ہماری سب سے بڑی تشویش موٹاپا ہے۔ ہمیں ان لوگوں کے متعلق احتیاط برتنے کی ضرورت ہے جنھیں سینے پر چوٹیں ہوں اور جو مریض پہلے ہی وینٹیلیشن ٹیوب یا کیتھرٹر ٹیوب پر ہوں۔'اس تکنیک کے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے دل کے زیادہ دورے پڑتے ہیں اور کئی مرتبہ اس سے ایئرویز یا سانس میں رکاوٹ بھی آ سکتی ہے۔ 'اس کا اب استعمال بہت زیادہ ہو رہا ہے'سب سے پہلے پروننگ کے فوائد کے متعلق 1970 کی دہائی کے وسط میں پتہ چلا تھا۔ لیکن ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے ہسپتالوں میں اس کا عام استعمال 1986 میں جا کر ہی عمل میں آیا۔لوسیانو گیٹینونی ان ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے سب سے پہلے اس تکنیک پر کام کیا اور کامیابی سے اسے مریضوں پر استعمال کیا۔ وہ اس وقت میلان کی یونیورسیٹا سٹاٹیل کے اعزازی پروفیسر ہیں اور اینیستھیسیولوجی اور ریسسیٹیشن کے ماہر بھی۔, پروفیسر گیٹینونی نے بی بی سی کو بتایا کہ پروننگ پر شروع شروع میں بہت سے اعتراضات کیے گئے، جن کا ذمہ دار وہ میڈیکل کمیونٹی کے بہت زیادہ قدامت پسند رویے کو ٹھہراتے ۔ Getty Images لیکن اب اس کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہےوہ کہتے ہیں کہ پروننگ کا واحد فائدہ پھیپھڑوں کو زیادہ آکسیجن پہنچانا ہی نہیں ہے۔ پروفیسر گیٹینونی کے مطابق 'جب مریض اوندھا پڑا ہوتا ہے تو اس کے پھیپھڑوں میں قوت زیادہ مساوی انداز سے پھیلتی ہے۔'ذرا اس پھیپھڑے کے متعلق سوچیں جس کو وینٹیلیٹر کی مکینیکل اینرجی دی جا رہی ہے: یہ اس طرح ہے جیسے اسے لگاتار مکے مارے جا رہے ہوں۔ صاف ظاہر ہے کہ جتنا متوازی طریقے سے قوت کو تقسیم کیا جائے گا، اتنا ہی کم نقصان ہو گا۔‘سنہ 2000 میں فرانس میں کی گئی ایک تحقیق میں پتہ چلا کہ جو مریض پرون ہوئے تھے ان کی نہ صرف آکسیجینیشن بہتر ہو گئی بلکہ ان کے بچنے کے امکانات بھی بہتر ہو گئے۔آخر کار یہ بھی اس عالمی بیماری کے خلاف لڑائی کا ایک ذریعہ ہے جس سے دسیوں ہزار افراد کی موت ہوچکی ہے اور ابھی تک اس کا کوئی علاج سامنے نہیں آیا۔ ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ 'اس وقت جو سب سے بہتر چیز ہم کر سکتے ہیں وہ اس طرح کی تھیراپیز کو استعمال کرنا ہے'۔'

Tuesday, May 12, 2020

’ارطغل کی حلیمہ‘ مغربی لباس میں پاکستانیوں کو پسند نہ آئیں

حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے کے بعد آپ ایسے لباس کیسے پہن سکتی ہیں؟ پاکستانی صارفین نے ترکش اداکارہ پربے جا تنقید شروع کردی
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔) 12مئی 2020ء - مقدس فاروق اعوان ) ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی پاکستان میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ارطغرل غازی کو وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی وی ہوم پر یکم رمضان سے نشر کیا جا رہا ہے۔اس ڈرامے کے کردار پاکستانیوں کے دلوں میں رچ بس گئے ہیں۔یہاں تک کہ پاکستانیوں نے ڈرامے میں نظر آنے والے کرداروں کو آئیڈلائز کرنا شروع کر دیا ہے_۔
سوشل میڈیا پر ترکش ڈرامہ نشر ہونے کے بعد پاکستان میں ڈرامے کے کردار و خصوصا حلیمہ اورارطغرل غازی کے خوب چرچے جاری ہیں۔بعد ازاں پاکستانی صارفین کی جانب سے ان اداکاراؤں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی فالو کیا جانے لگا 
ہے"۔
تاہم ڈرامے کے برعکس اداکاراؤں کو کو مغربی لباس میں دیکھ کر پاکستانیوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے_۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے ترکش اداکار اور اداکارہ کے اکاؤنٹ پر ان کے لباس پربے جا تنقید شروع کردی ہے۔یہی لوگ اب ترکش اداکاراؤں کو کو سوشل میڈیا پر اخلاقیات کے درس دینے لگے ہیں:۔
پاکستانی صارفین کا کہنا ہے کہ حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے کے بعد آپ ایسے لباس کیسے پہن سکتی ہیں جو حلیمہ سلطان کی شخصیت کے خلاف ہیں۔
تاہم پاکستانی صارفین یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ بنیادی طور پر وہ شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ڈرامے میں صرف ایک کردار کو نبھا رہے ہیں جن کا ان کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس تمام صورتحال پر پاکستان شوبز انڈسٹری کے لوگ بھی خاموش نہ بیٹھے۔اداکار احسن خان نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پاکستان میں لوگ سوچتے ہیں کہ یہاں پر اداکاراؤں کو ٹرول کرنا اور انہیں جج کرنا ٹھیک ہے۔کم ازکم ارطغل غازی کی کاسٹ کو تو بخشا جائے، یہ شرم ناک بات ہے:۔
کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں ترکی کے اداکاروں پر تنقید کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ہمارے اپنے اداکار کتنے پانی میں ہیں'۔

Monday, May 11, 2020

کورونا ریلیف فنڈ کے ذریعے لاک ڈائون کی وجہ سے بیروزگار ہونے والے افراد کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی،



ٹائیگر فورس ملک بھر میں متاثرین کی رجسٹریشن کر رہی ہے،جو لوگ بیروزگار ہوئے ہیں وہ ویب سائیٹ پر اپنا اندراج کروا سکتے ہیں
وزیراعظم عمران خان ک ٹویٹ
  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا ریلیف فنڈ کے ذریعے لاک ڈائون کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے افراد کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ٹائیگر فورس ملک بھر میں متاثرین کی رجسٹریشن کر رہی ہے اور جو لوگ بے روزگار ہوئے ہیں وہ ویب سائیٹ پر اپنا اندراج کروا سکتے ہیں, ۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں تحصیل وزیر آباد کے علاقے منصور والی میں ٹائیگر فورس کی ایک خاتون رکن بے روزگار افراد کی نشاندہی کر رہی ہے_۔

شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے سے کس نے روکا حیران کن خبر آگئی




 
May 11, 2020 | 21:03:PM
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )آج کورونا وائرس سے متعلق قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف دونوں ہی موجود نہ تھے ،شہباز شریف کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سامنے آگئی ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر صحافی ارشد وحید چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کی ڈاکٹر نےاپوزیشن لیڈر کو اجلاس میں شرکت کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔شہباز شریف کے نام ڈاکٹر کی جانب سے جاری کیے گئے ہدایت نامے میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ڈاکٹر کا کہنا تھا کی.  ” میرے علم میں آیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں آپ کی شرکت معنی رکھتی ہے لیکن آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ قومی اسمبلی کے اجلاس میں. شرکت نہ کریں۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ جیسا کہ آپ کو پتا ہے کہ آپ کی عمر پچاس سال سے زائد ہے اور آپ کینسر کے مریض ہیں۔ لہٰذا آپ کی قوت مدافت اتنی مضبوط نہیں کہ آپ کرونا وائرس کا مقابلہ کر سکیں۔جیسا کہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس وقت کرو نا کی وبا نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس میں)50 سال سے زائد عمر کے افراد متاثر ہوکر زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔ہدایت نامے میں شہباز شریف کو ہدایت کی گئی کہ میں آپ کا ذاتی معالج ہونے کی بنا پر کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ لہذا آپ کا بھی فرض ہے کہ میرے دیے گئے ہدایت نامے پر عمل درآمد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کریں. . ۔

Friday, May 8, 2020

18ویں ترمیم: ’اختیارات کی واپسی نہیں چاہتے مگر این ایف سی ایوارڈ میں ایڈجسٹمنٹ ہونی چاہیے‘ فرحت جاوید

                                                                                                                                                                                                                                                     فواد چوہدری                                                                                                                                                                                          پاکستان  کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت صوبوں سے اختیارات واپس لینے کے حق میں ہرگز نہیں لیکن صوبوں میں رقم کی تقسیم کے لیے بنائے گئے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں تبدیلی آنی چاہیے۔
بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس ایوارڈ کے تحت صوبوں کو بڑی رقم چلی جاتی ہے لیکن وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا۔
’اس وقت جو پاکستان کا سب سے بڑا خرچہ ہے وہ قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی ہے جبکہ دفاعی بجٹ بھی وفاق کا ایک بڑا خرچہ ہے۔
’وفاق کو قرضوں کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے، بڑے منصوبے چلانے ہوتے ہیں اور دفاعی بجٹ دینا ہوتا ہے لیکن یہ تمام وہ چیزیں ہیں جو صوبے بھی استعمال کرتے ہیں اس لیے صوبوں کو بھی دفاعی بجٹ اور میگا پراجیکٹس کے لیے حصہ دینا چاہیے۔‘
وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ یہ معاملات این ایف سی ایوارڈ کے تحت آتے ہیں اس لیے ’این ایف سی ایوارڈ میں ایڈجسٹمنٹ ہونی چاہیے‘ اور اس پر جلد بحث کا آغاز ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی وبا کے روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کے سلسلے میں وفاق اور صوبۂ سندھ جہاں اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، کے درمیان تناؤ اور کھنچاؤ دیکھا گیا ہے، ایک بار پھر 18ویں ترمیم میں تبدیلی یا اس کے خاتمے کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گرماگرم بحث چھِڑی ہوئی ہے۔
کئی حلقے اسے حکومت کی جانب سے ’کورونا وائرس سے نمٹنے میں ناکامی‘ سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔

Thursday, May 7, 2020

وزیراعظم عمران خان نےمرحلہ وار لاک ڈاﺅن کھولنے کااعلان کر دیا

انجینیئر محمد علی مرزا کون ہیں اور انھیں کیوں گرفتار کیا گیا تھا؟

  • پاکستان کے ضلع جہلم میں عدالت نے ایک ویڈیو میں مبینہ
  •  طور پر کچھ مذہبی شخصیات کو پہنچانے کی بات کرنے والے انجینیئر محمد علی مرزا کی ضمانت منظور کر لی ہے جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔ چار مئی کو جہلم پولیس نے آن لائن مذہبی لیکچر دینے والے محمد علی مرزا کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ڈی پی او جہلم عمر فاروق کے مطابق انجینیئر محمد علی مرزا کے خلاف سیکشن 153 اے (جو کسی ایسے شخص کے خلاف لگایا جاتا ہے جو نفرت انگیز گفتگو اور کسی دوسری کے خلاف اشتعال دلانے کا مرتکب ہو) کے تحت مقدمہ درج کر کے انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔ انھوں نے معاملے کی قانونی کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے محمد علی مرزا کو گرفتار کرنے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کیں اور انھیں عدالت میں پیش کیا جہاں سے پولیس کو ان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ ملا لیکن اسی ریمانڈ کے دوران ملزم نے بھی عدالت سے رجوع کیا اور انھیں وہاں سے ضمانت مل گئی۔ گرفتاری کی وجہ بننے والی ویڈیو میں کیا تھا؟ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں محمد علی مرزا پیری مریدی، اور بیعت کی شرعی حیثیت پر بات کرتے نظر آتے ہیں جس میں وہ اپنی بات کے ثبوت میں متعدد احادیث کے حوالے پیش کرتے ہیں۔ اس دوران جب وہ پاکستان میں مقبول چند مذہبی شخصیات کا تذکرہ کرتے ہیں تو سامعین میں موجود ایک شخص نے انھیں ٹوک کر کہتا ہے کہ’ایسی بات نہ کریں یہ آپ زیادتی کر رہے ہیں‘ جس پر انھوں نے جواب دیا کہ ’جب آپ قرآن و سنت اور حدیث سے دلیل لے رہے ہیں تو میں بات پوری کروں گا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے مؤقف کی تائید میں ایک اور کتاب کے ساتھ ساتھ قرآن سے بھی حوالے دیے۔ یہ بھی پڑھیے ’پیر نے جو کیا ٹھیک کیا‘’اپنی جارحیت کے لیے مذہب کا استعمال بند کریں‘آنکھ مارنے والی اداکارہ نے ’توہین مذہب نہیں کی‘انجینیئر محمد علی مرزا کون ہیں؟محمد علی مرزا جہلم میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں وہ ایک اکیڈمی چلاتے ہیں جہاں دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ محمد علی مرزا آن لائن مذہبی لیکچر بھی دیتے ہیں اور اپنے نام سے یوٹیوب چینل بھی چلاتے ہیں جہاں وہ مختلف معاشرتی و مذہبی موضوعات پر مبنى گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے لیکچر یوٹیوب پر بہت مقبول ہیں اور انھیں لاکھوں مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔محمد علی مرزا کی مقبولیت کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ وہ حساس موضوعات پر کھل کر بات کرتے ہیں جبکہ ان کے خیالات سے اختلاف کرنے والے لوگ ان کے انداز گفتگو کو تنقیدی انداز میں دیکھتے ہیں۔ اس واقعے سے قبل بھی ان کی بیشتر تقریروں پر بہت سے تنازعات کھڑے ہو چکے ہیں تاہم لوگوں میں ان کے لیے پسندیدگی اور مقبولیت اپنی جگہ موجود ہے۔ گرفتاری پر پولیس کا مؤقفڈی پی او جہلم عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد علی مرزا کا جو ویڈیو کلپ وائرل ہوئی تھی جس میں انھوں نے چند شخصیات کا نام لے کر کہا کہ ان لوگوں کو قتل کر دینا چاہیے، جس کی وجہ سے ان سے اختلاف کرنے والے دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مشتعل ہو رہے تھے، اس لیے پولیس نے یہ کارروائی کی۔انھوں نے کہا کہ وہ یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ مقدمہ کسی مذہبی اختلاف کی وجہ سے درج نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس لیے کیا گیا کیونکہ انھوں نے مذہبی شخصیات کا نام لے کر انھیں قتل کرنے کو کہا، اس لیے مقدمہ پولیس کی اپنی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی ان کے خلاف کافی شکایات آتی رہتی ہیں کہ یہ اپنی تقریروں کے ذریعے اور ویسے بھی کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے پہلے ان کے خلاف کارروائی اس لیے نہیں کی تھی کیونکہ جو شکایات پہلے آئی تھیں وہ اس قسم کی تھیں کہ محمد علی مرزا ہمارے عقیدے کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ آج سے تین سال پہلے ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس پر پولیس نے ان کی مدعیت میں ایف آئی آر بھی درج کی تھی اور کارروائی کے مطابق کام کر کے کیس کو نمٹایا تھا۔‘عدالتی کارروائی کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ کچھ قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث محمد علی مرزا کو عدالت کی طرف سے ضمانت دی گئی ہے، کیونکہ عدالت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ یہ مقدمہ پولیس کے بجائے ایف آئی اے کے تحت چلنا چاہیے کیونکہ قانونی طور پر حکومت کی طرف سے بنائے گئے معیاری طریقہ کار ایس او پیز کے تحت ایسے معاملات محکمہ داخلہ دیکھتا ہے اور فیصلہ کیا جاتا ہے کہ مقدمہ کہاں چلایا جائے گا۔ ڈی پی او جہلم کا کہنا تھا کہ محمد علی مرزا کا یہ بھی مؤقف ہے ۔’میری بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے‘ جس کی ہم مزید تحقیق کر رہے ہیں، اور اگر یہ مقدمہ قانونی طور پر ایف آئی اے کے تحت آتا ہو گا تو ان کے پاس بھیج دیں گے‘۔سوشل میڈیا صارفين کا ردعمل محمد علی مرزا کی گرفتاری کے بعد ہی سے سوشل میڈیا ہر ان کی گرفتاری اور وائرل ہونے والی ویڈیو زیر بحث آگئیں، جس کے بعد ٹوئٹر پر ان کے نام سے ٹرینڈ بھی چلنے لگے اور محمد علی مرزا کی گرفتاری پر عوام کے ردعمل کے ساتھ ساتھ دیگر چند نامور شخصیات کی جانب سے ٹویٹس سامنے آئیں۔ معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے ان کی گرفتاری پر لکھا کہ یاد رہے دوسروں کو ان کے عقیدوں کی وجہ سے دبانے پر ہمیں اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا، جبکہ محمد علی مرزا کی گرفتاری پاکستانیوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں بھی ان کے بہت سے خیالات سے متفق نہیں ہوں لیکن اب انھیں لازمی سننا پڑے گا کیونکہ انھیں گرفتار کیا ۔ اگر اس علاقے سے تعلق رکھنے والا پنجاب پولیس کا اہلکار دیکھ رہا ہے تو اسے اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ وہ کسی کو اس کے عقیدے کی وجہ سے دبا رہے ہیں۔ اینکر شفاعت علی نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا ’میں ہوں مسلم علمی کتابی‘ کا نعرہ لگانے والے انجینئر_محمد_علی_مرزا کی گرفتاری قابل افسوس ہے انجینئر صاحب کی فکر اور انداز بلا شبہ بے باک ہے اور اس میں کشش ہے جو کچھ لوگوں کو گراں گزرتا ہے گرفتاریاں اور پابندیاں نہ کسی شخص کے نظریات نہیں بدل سکتی۔ یہ ایک فرسودہ روایت ہے۔‘جہاں لوگوں کی بڑی تعداد ان کے حق میں اپنے سوشل میڈیا پر لکھ رہے ہیں وہاں ہی دوسری جانب کچھ لوگوں کی جانب سے محمد علی مرزا کی گرفتاری کو سراہا بھی گیا اور ان پر تنقید بھی کی جاتی رہی،۔

کورونا وائرس ٹاسک فورس جلد ختم کر دیں گےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق


              (6/5/ 2020) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی وائٹ ہائوس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس جلد ختم کر دیں گے تاکہ ملک کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست ایریزونا میں ماسک بنانے والی فیکٹری کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک کو واپس معمول پر لانے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر مائیک پنس اور ان کی ٹاسک فورس نے بہت اچھا کام کیا ہے لیکن ہم لوگوں کے تحفظ اور ملک کو کھولنے سے متعلق غور کر رہے ہیں اور ہم اس کے لیے غالباً ایک گروپ تشکیل دیں گے۔ انہوں نے کورونا وباء پر قابو پانے کے مشن سے متعلق کہا کہ ابھی یہ مشن مکمل نہیں ہوا ہے، یہ مشن اس وقت مکمل ہو گا جب کورونا وائرس ختم ہو گا

انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ہر چیز بہترین ہے، لیکن ہاں ٹاسک فورس ختم کرنے سے بعض لوگ متاثر ہوں گے اور بعض بہت زیادہ متاثر ہوں گے لیکن ہمیں اپنے ملک کو کھولنا ہے اور ہم اسے بہت جلد کھولیں گے اور معمول پر لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس ختم ہونے کے بعد بھی اس کے ماہرین ڈاکٹر ڈیبوراہ برکس اور ڈاکٹر اینتھنی فائوکی سمیت دیگر ڈاکٹرز اور ماہرین کورونا وائرس پر قابو پانے کی کوششوں میں شامل رہیں گے۔
امریکی نائب صدر مائیک پینس نے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ رواں ماہ کے آخر تک ایمرجنسی ٹاسک فورس کی ضرورت نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ25 مئی یا جون کے اوائل میں ٹاسک فورس بند کرنا ہوگی اور جلد ہی ٹاسک فورس کی ذمہ داریاں سرکاری ایجنسیوں کے حوالے کر دی جائیں گی۔

Wednesday, May 6, 2020

کورونا وائرس: ’بھوک کی وبا‘ کا سامنا کرنے والے پانچ ممالک




کورونا وائرس: ’بھوک کی وبا‘ کا سامنا کرنے والے پانچ ممالک
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث بڑھتی اموات کے دوران عالمی ادارہ خوارک نے متنبہ کیا ہے کہ دنیا کو ’بھوک کی عالمی وبا‘ کا ممکنہ سامنا ہے کیونکہ رواں برس خوراک کی قلت کا شکار افراد کی تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارہ خوارک کے مطابق سنہ 2019 کے اختتام پر دنیا بھر میں ساڑھے 13 کروڑ افراد کو ’شدید بھوک‘ کا سامنا تھا اور اب چونکہ دنیا کے بیشتر ممالک کو لاک ڈاؤن کا سامنا ہے تو یہ تعداد رواں برس بڑھ کر ساڑھے 26 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلے نے کہا ہے کہ ’کورونا وائرس کے مسئلے کے سر اٹھانے سے بھی قبل میں متعدد وجوہات کی بنیاد پر کہہ رہا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سنہ 2020 ایسا سال ہو گا جس میں بدترین انسانیت سوز بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

سنہ 2019 میں عالمی ادارہ خوراک کو ملنے والی امداد کا حجم 8.3 ارب ڈالر تھا۔ رواں برس اس ادارے کو اپنا کام چلانے کے لیے 10 سے 12 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
يمن


یمن میں جنگ کی ابتدا سے قبل بھی یہ ملک عرب دنیا کا سب سے غریب ترین ملک تھا۔

مگر سنہ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں نے ملک میں پہلے سے موجود انسانی بحران کو وسیع تر کر دیا ہے۔

عالمی ادارہ خوارک کے چیف اکانومسٹ عارف حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جیسے جیسے تنازع طویل ہو رہا ہے زیادہ سے زیادہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ سنہ 2016 میں ہم یمن میں 30 سے 40 لاکھ افراد کو امداد فراہم کر رہے تھے۔ اب یہ تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

قحط زدہ زندگی کے روپ

وہ پانچ وبائیں جنھوں نے دنیا بدل کر رکھ دی

’مزید دس لاکھ یمنی بچے قحط کے خطرے سے دوچار‘

عالمی ادارہ خوارک کے مطابق صورتحال مزید گھمبیر اس وقت ہوئی جب کئی ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے خدشات کے پیش نظر حوثی باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں امداد پہنچانے کا سلسلہ بند کرنا پڑا۔

ان ممالک کا کہنا تھا کہ حوثی اپنے علاقوں میں امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈال رہے تھے۔

رواں ماہ کے آغاز پر یمن میں کورونا وائرس کا پہلا مصدقہ کیس سامنے آیا تھا۔ امداد فراہم کرنے والے اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ جلد ہی یہ وبا یمن کے کمزور صحت کے نظام پر حاوی ہو جائے گی۔

جمہوریہ کانگو

کانگو کے مختلف علاقے گذشتہ 25 برسوں سے مسلح تصادم کی زد میں ہیں اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہاں دنیا کا دوسرا بڑا بھوک کا بحران درپیش ہے۔

کانگو کے 15 فیصد عوام کو ’کھانے کے حوالے سے شدید ترین عدم تحفظ کا شکار‘ افراد کی کیٹگری میں رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کا شمار دنیا بھر کے ان تین کروڑ افراد میں ہوتا ہے جو براہ راست جنگی زون میں بستے ہیں اور ان کا مکمل دارومدار امداد پر ہوتا ہے۔

عارف حسین کے مطابق ان افراد کو اگلے تین ماہ کے لیے خوراک کی ترسیل کا بندوبست کرنے کے لیے کم از کم دو ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ افراد ہیں جو بری طرح متاثر ہیں اور اب (کورونا کے بعد) یہ مزید مشکلات کا شکار ہیں۔‘

کانگو میں ان افراد کے علاوہ پڑوسی ممالک سے آئے 50 لاکھ پناہ گزین اور پانچ لاکھ مہاجرین بھی موجود ہیں۔

جنگی زدہ علاقوں میں رہنے والے ہر شخص کو درپیش خطرات کے علاوہ، کورونا وائرس پھیلنے کے دوران بے گھر افراد اس سے بھی زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں کیونکہ ان میں اکثر بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کرنے کے لیے ضروری حفظان صحت کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے متنبہ کیا تھا کہ کانگو میں جاری تصادم کورونا وائرس کی روک تھام کی کوششوں کو متاثر کر رہا ہے۔ کورونا کی وبا اب تک کانگو کے دارالحکومت کو متاثر کر چکا ہے۔

وینزویلا



اس فہرست میں شامل دیگر ممالک کے برعکس وینزویلا میں بھوک کا مسئلہ کسی جنگ یا ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ معاشی مشکلات کی وجہ سے ہے۔

اگرچہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں لیکن ملک میں شرح مہنگائی گذشتہ سال جنوری میں 200 فیصد تک پہنچ گئی تھی جس کے بعد ملک کی ایک تہائی آبادی کو بیرونی امداد کی ضرورت پڑی۔

عالمی ادارہ خوراک کے مطابق صحت کے کارکنوں کے ملک سے بڑے پیمانے پر نکل جانے کے بعد ان مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

اور مسائل کی فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی۔ وینزویلا کی 15 فیصد آبادی یعنی 48 لاکھ افراد نے گذشتہ چند برسوں میں اپنا ملک چھوڑ کر پڑوسی ممالک کی طرف ہجرت کی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ پڑوسی ممالک میں خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

جنوبی سوڈان

جنوبی سوڈان سنہ 2011 میں اس وقت معرض وجود میں آیا تھا جب اس نے اپنے شمالی ہمسائے سے آزادی حاصل کی۔

آزادی حاصل کرنے کا ایک مقصد یہ تھا کہ ملک میں برسوں سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ کیا جا سکے مگر آزادی حاصل کرنے کے دو ہی برس بعد جنوبی سوڈان سخت مسلح تصادم کا شکار ہو گیا۔

عالمی ادارہ خوارک نے متنبہ کیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں بھوک اور غذائیت کی کمی سنہ 2011 سے اپنی انتہائی سطح پر ہے اور ملک کی لگ بھگ 60 فیصد آبادی ہر روز کھانا ڈھونڈنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

صورتحال نے اس وقت بدترین رخ اختیار کیا جب رواں برس مشرقی افریقہ میں فصلوں کو تباہ کرنے کے بعد ٹڈی دل نے جنوبی سوڈان کا رخ کیا۔

عارف حسین کے مطابق ’اگر یہاں کورونا وائرس مسئلہ نہیں بھی ہے تو صحرائی ٹڈی ایک بہت بڑی کہانی ہے۔‘

جنوبی سوڈان کا بڑا دارومدار تیل پر ہے اور تیل کی قیمتیں کم ہونے کے بعد یہ ملک شدید طرح سے متاثر ہو گا۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق جنوبی سوڈان میں کورونا وائرس کے صرف چار کیس ہیں۔

افغانستان

افغانستان ایک اور جنگ زدہ ملک ہے جو گذشتہ دو دہائیوں سے جنگ کی زد میں ہے۔

سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے 18 سال بعد اب یہاں کی نصف آبادی خط غربت سے نیچے رہ رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ افراد کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

افغان حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق یہاں کورونا کے ایک ہزار سے زائد مصدقہ متاثرین موجود ہیں۔

یہ تعداد کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دہائیوں سے جاری تصادم کے نتیجے میں صحت کا نظام بہت کمزور ہے اور ٹیسٹنگ کی صلاحیت کی بہت زیادہ کمی ہے۔

یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ وبا سے شدید متاثر ملک ایران سے ڈیڑھ لاکھ افراد افغانی شہریوں کے حال ہی میں ملک واپس آنے کے بعد یہاں متاثرین کی تعداد بتائی گئی تعداد سے کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے علاوہ بہت سے افغانی حال ہی میں پاکستان سے بھی واپس اپنے ملک لوٹے ہیں۔

13 کروڑ مزید۔۔۔
جنگ زدہ اور ماحولیاتی اور معاشی مشکلات کا شکار ممالک کے علاوہ ایسے بہت سے دیگر غریب اور نیم متوسط ممالک بھی ہیں جو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث متاثر ہوں گے۔

کورونا کا مسئلہ مختلف نوعیت کے معاشی دباؤ سے اور زیادہ خراب ہو گا۔ ایسے ممالک میں ترسیلات زر یا بیرون ملک رشتہ داروں کی جانب سے بھجوائی جانے والی رقوم کا گراف بھی گِر جائے گا۔

عارف حسین کہتے ہیں کہ ’سب سے اہم چیز یہ ہے کہ (کورونا کا) سستا علاج پوری دنیا میں ہر شخص کو دستیاب ہونا چاہیے۔ مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا اس وقت تک ہمیں لوگوں کی زندگیاں اور روزگار بچانے کے لیے سب کچھ کرنا چاہیے۔‘

متعلقہ عنوانات
افغانستانجمہوریہ کانگوکورونا وائرسقحطفوڈجنگفوڈ سیفٹیجنوبی سوڈان


ڈی جی آئی ایس آئی وزیر اعظم سے ملنے پہنچ گئے، کیا باتیں ہوئیں؟

  • اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈائریکٹر جنرلface آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے،۔

رجمان وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق عمران خان اور ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات وزیر اعظم آفس اسلام آباد میں ہوئی۔  ترجمان کے مطابق وزیر اعظم اور ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات میں داخلی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔

ڈی جی آئی ایس آئی وزیر اعظم سے ملنے پہنچ گئے، کیا باتیں ہوئیں؟

Saturday, May 2, 2020

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سےمہنگائی کم کریں گے, عمران خان

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی 2020ء - ثنااللہ ناگرہ ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کم کریں گے، چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی ہے کہ پٹرول اور ڈیز ل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، تواشیائے خوردونوش کی قیمتیں اور کرایوں میں کمی کی جائے،کورونا کا مقابلہ کرنے کیلئے عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔
انہوں نے وفاقی وزراء کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پہلی ہماری کوشش مزدور اور مستحق لوگوں تک پہنچنا تھا، اس کیلئے ہم نے احساس پروگرام شروع کیا،اب تک 81ارب روپے 68 لاکھ خاندانوں میں بانٹا گیا ہے۔ اس کی کہیں مثال نہیں ہے، اتنے تھوڑے وقت میں اتنا پیسا بانٹا گیا ہے، ابھی احساس پروگرام چلتا رہے گا، انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک اور پیکج اعلان کررہا ہوں، بے روزگاروں کیلئے ویب سائٹ بنا دی ہے، اس پر کوئی بھی بے روزگار اپنا ڈیٹا دے گا، کہ وہ کہاں کام کررہا تھا اور کب سے بے روزگار ہے، احساس پروگرام کی طرح ہم ان لوگوں کو بھی پیسے پہنچائیں گے۔
جن کو ویب سائٹ پر نام کا اندراج نہیں کرنا آئے گا وہ اپنے گھر میں کسی بھی اسٹوڈنٹ کے ذریعے نام اندراج کروا سکتے ہیں۔ ٹائیگرز فورس کو کہتا ہوں کہ آپ ان مستحق لوگوں تک پہنچیں۔جب لوگوں کے نام رجسٹرڈ ہوجائیں گے تو ہم پھر ان کی اسکروٹنی کریں گے۔جو مستحق ہوں گے ان کو کیش پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں 20ہزار سے زیادہ لوگ مرگئے ہیں انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہے کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کھولی جائے۔
اس لیے پاکستا ن میں بھی کنسٹرکشن انڈسٹری کو پوری طرح کھولا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت سب سے کم قیمت ہے، ہم نے ایک مہینے میں پٹرول کی 30روپے قیمت کم کی ہے، ڈیز ل کی ہم نے 42روپے قیمت کم کی ہے، ڈیزل فیول ٹرانسپورٹ اور کسان استعمال کرتے ہیں، اس کا اثر ہر چیز پر پڑے گا۔ چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی ہے کہ پٹرول اور ڈیز ل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، تواشیائے خوردونوش کی قیمتیں اور کرایوں میں کمی کی جائے۔کیونکہ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہر کوئی قیمت بڑھا دیتاہے۔اب پٹرول ڈیزل کی قیمت میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے۔مٹی کا تیل ہم نے 45روپے کم کیا ہے۔

پنجاب میں90 فیصد لوگ صحت یاب ہو کر گھر چلے گئے ہیں؛وزیرِ اعلیٰ عثمان برداز

لاہور(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-02مئی2020ء - خُرم انیق ) پنجاب میں90 فیصد مریض صحت یاب ہو کر گھر چلے گئے ہیں۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں جس سے معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے،اس حوالےسے بات کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ ابھی تک احساس پروگرام کے تحت 28 لاکھ خاندانوں میں 34 ارب کی رقم تقسیم کر چکے ہیں۔
اس کے علاوہ خوشخبری سناتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 90 فیصد مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔ پنجاب کے 6 اضلاع میں اسمارٹ سیمپلنگ کا آغاز کیا جارہا ہے۔سیمپلنگ کے ذریعے متاثرہ افراد کی تعداد کا جائزہ لیا جائے گا اور بعد میں اس حوالے سے اقدامات کئے جائیں گے
قرنطینہ میں موجود لوگوں کی شکایات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ لوگوں کی شکایات پرانکوائری کرنےکا حکم دے دیا گیا ہے اور اس حوالے سے ہرممکن طریقےسے کارروائی کی جا ئے گی۔
اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کورونا کے خلاف جنگ لڑنے والے طبی عملے کے بارے میں بتایا ہےکہ انہیں اضافی تنخواہیں دی جائیں گی۔مزید مستحق افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ رمضان پیکج کے تحت ضرورت مند لوگوں میں 3 ہزار تک کی رقم تقسیم کی جائے گی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عثمان بزدار نے خوشخبری سنائی ہے کہ 90 فیصد مریض صحت یاب ہو گئے ہیں جس کے بعد وہ گھروں کو چلے گئے ہیں۔
مزید بتایا گیا ہےکہ پنجاب کے 6 اضلاع میں اسمارٹ سیمپلنگ کا آغاز کیا جارہا ہے۔سیمپلنگ کے ذریعے متاثرہ افراد کی تعداد کا جائزہ لیا جائے گا اور بعد میں اس حوالے سے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقع پر عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ معیشت کا پہیہ بھی چلتارہے۔

وزیراعظم نے ساجد گوندل اغواءکی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی مشیر داخلہ شہزاد اکبر کی سربراہی میں 3 رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے

                                                                               اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08...