Tuesday, September 8, 2020

وزیراعظم نے ساجد گوندل اغواءکی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی مشیر داخلہ شہزاد اکبر کی سربراہی میں 3 رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے

                           وزیراعظم نے ساجد گوندل اغواءکی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی                                                   اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 ستمبر)(۔2020ء) وزیراعظم عمران خان نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے افسر کے مبینہ اغوا کی تحقیقات کے لیے مشیر داخلہ شہزاد اکبر کی سربراہی میں 3 رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دیدی ہے. ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے ساجد گوندل کے لیے اغواءکے معاملے پر وفاقی کابینہ کو بریفنگ دی ذرائع کے .مطابق کمیٹی میں وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری بھی شامل ہیں..

کمیٹی ساجد گوندل کے اغوا پر تحقیقات کر کے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کرے گی یاد رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن جاوید اقبال نے بھی ساجد گوندل کی مبینہ گمشدگی کا نوٹس لیا تھا..

اعلامیہ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن نے ساجد گوندل کی مبینہ گمشدگی سے متعلق سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس سے رپورٹ کر لی ہے‘جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن جاوید اقبال بدھ کو ساجد گوندل کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کریں گے میڈیا رپورٹس کے تحت ساجد گوندل کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ جمعرات کی شام سے لاپتہ ہیں.

اسلام آباد پولیس کو ان کی سرکاری گاڑی جمعہ کی صبح وفاقی دارالحکومت کے علاقے شہزاد ٹاﺅن میں واقع زرعی تحتقیقاتی مرکز کے باہر سے ملی تھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے ساجد گوندل کو بازیاب کرا کے پیر کو دن دوپہر دو بجے تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے.                                    

Friday, May 15, 2020

کوئی نہیں کہہ سکتا، کورونا کتنے ماہ مزید چلے گا،عمران خان

ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس سال ویکسین نہیں آئے گی،جس کا مقصد فی الحال کورونا نہیں جائے گا، ہمیں کورونا کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کی وفاقی وزراء کے ہمراہ میڈیا بریفنگ 
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مئی 2020ء - ثنااللہ ناگرہ ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا، کورونا کتنے ماہ مزیدچلے گا،ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس سال ویکسین نہیں آئے گی، اس کا مقصد کورونا جائے گا نہیں، ہمیں کورونا کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا۔انہوں نے وفاقی وزراء کے ہمراہ میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ آج طبی عملے سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں ،دنیا میں ڈاکٹرز اور نرسز فرنٹ لائن ورکرز ہیں:۔
ڈاکٹرز اور نرسز پر بہت دباؤ بڑھنا تھا، اسی لیے ان کی ایسوسی ایشنز نے بھی ردعمل کا اظہار کیا۔حکومت کو ایک طرف کورونا کو دیکھنا ہے اور پھر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا ہے۔ہم تین ماہ بھی لاک ڈاؤن کردیتے ، کھانا بھی پہنچا دیتے، وسائل بھی خرچ کردیتے، لیکن سب ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اس سال ویکسین نہیں آئے گی، اس کا مقصد کورونا جائے گا نہیں'۔
کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وائرس دو یا تین ماہ میں ختم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے باقی دنیا کی طرح اس وائرس کے ساتھ رہنا ہے، وائرس کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہے۔کیا ہم مسلسل لاک ڈاؤن کو افورڈ کرسکتے ہیں۔ ایک مہینہ اور بھی لاک ڈاؤن کرلیں، تو بھی وائرس کے ساتھ رہنا ہوگا۔ امریکا نے 2200ارب ڈالر، جرمنی نے ایک ہزاریوروز،جاپان نے ایک ہزار ارب ڈالرکا پیکج دیا، اس کے مقابلے میں کیا ہم اپنے کاروبار بند کرسکتے ہیں؟میں بتانا چاہتا ہوں کہ رپورٹ کے مطابق 2017-2018ء کے اڑھائی کروڑ ایسے مزدور ہیں جو یومیہ یا ہفتے کی کمائی سے گزارا کرتے ہیں۔لاک ڈاؤن سے ان کی کمائی کا ذریعہ ختم ہوگیا، اس سے 15کروڑ لوگ لاک ڈاؤن سے متاثر ہیں۔ہم نے وہ کام کیے ہیں، جو ابھی ترقی یافتہ ممالک نہیں کرسکے۔ ہم 12ہزار ایک خاندان کیلئے کتنی دیر دے سکتے ہیں؟ عمران خان نے کہا کہ یہ بھی میں واضح کردوں کہ پاکستان میں کیسز بڑھیں گے، روز ہماری ٹیم جائزہ لیتی ہے، کہ وائرس کا پھیلاؤ کس طرف جارہا ہے؟ ہمیں پتا ہے کہ کورونا کے کیسز بڑھیں گے، لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اگر لوگوں کو روزگار نہ دیا تو کورونا سے زیادہ لوگ بھوک سے مرجائیں۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی معیشت کا بچا رہے ہیں لیکن ہم تو اپنے لوگوں کو بھوک سے بچا رہے ہیں_۔

Thursday, May 14, 2020

وزیراعظم نے ٹرانسپورٹ اور دیگر سیکٹرز کھولنے کا عندیہ دے دیا




پنجاب، خیبرپختونخواہ کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے، ٹرانسپورٹ بندش سے عام آدمی اور کاروبار شدید متاثر ہوا، آبادی کو لاک ڈاؤن سے کہیں زیادہ بھوک وافلاس سے خطرہ ہے،لاک ڈاؤن کورونا کا علاج نہیں بلکہ عارضی اقدام ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مئی 2020ء - ثنااللہ ناگرہ ) وزیراعظم عمران خان نے ٹرانسپورٹ اور دیگر سیکٹرز کھولنے کا عندیہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے مطالبات کا جائزہ لیا جائے، ٹرانسپورٹ بندش سے عام آدمی کا کاروبار اور آمدورفت شدید متاثر ہوئی، آبادی کو لاک ڈاؤن سے کہیں زیادہ بھوک وافلاس سے خطرہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کورونا صورتحال اور حکومتی اقدامات سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔
معاون خصوصی ڈاکٹرظفر مرزا نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور متاثرین کے اعدادوشمار پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، حماد اظہر، شبلی فراز، خسرو بختیار، سید فخر امام، عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، عاصم سلیم باجوہ، معید یوسف، چئیرمین این ڈی ایم اے، فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل سمیت دیگر حکام نے شرکت کی`۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلی نے پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق عوام کو درپیش مسائل پر بریفنگ دی۔ دونوں وزراء اعلیٰ نے کہا کہ ٹرانسپورٹ بندش سے عام آدمی کا کاروبار اور آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم کو آٹو موبیلز سیکٹر، موٹرسائیکل مینوفیکچررز اور شاپنگ مالز ایسوسی ایشن کے مطالبات بھی پیش کیے گئے۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ مطالبات کا جائزہ لیا جائے تاکہ اس بارے میں فیصلہ کیا جا سکے_۔
وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے متعلق حکومتی پالیسی نہایت واضح ہے۔ بھوک اور وباء کی روک تھام سے متعلق حفاظتی اقدامات میں توازن رکھنا ہے۔ آبادی کو جتنا خطرہ لاک ڈاؤن سے ہے اس سے کہیں زیادہ بھوک و افلاس ہے۔ ہراس شعبے کو سہولت دی جائے گی جس سےغریب، سفید پوش افراد کے کاروبار وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کورونا کا علاج نہیں بلکہ عارضی اقدام ہے'۔
ہمیں اپنے فیصلے زمینی حقائق اورعوام کی حالت دیکھ کرکرنے ہیں۔ جب تک ہماری معیشت بحال نہیں ہو جاتی، نادار طبقے کی مشکلات بھی بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عوام پر سختی کی بجائے دوستانہ رویہ اختیار کرے۔ حفاظتی تدابیر پر زور زبردستی اختیار کرنے کی بجائے شعور اجاگر کیا جانا چاہیے۔ میڈیا عوام کو حفاظتی تدابیر اور ضوابط پر عمل کی ترغیب میں مزید موثر کردار ادا کرے۔
x

کورونا وائرس: ’پروننگ‘ کیا ہوتی ہے اور کورونا وائرس کے مریضوں کو پیٹ کے بل کیوں لٹایا جاتا ہے؟






Getty Images دنیا میں کووڈ۔19 کے کیسز بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ذہنوں میں ہسپتالوں کی تصاویر بھی نقش ہوئی ہیں۔ لیکن جب ہم انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں مریضوں کو سانس لینے میں مدد کے لیے جدید وینٹیلیٹروں کے ساتھ دیکھتے ہیں تو جو ایک چیز ہمیں بڑی عجیب لگتی ہے وہ یہ ہے کہ کیوں ان میں سے اکثر اپنے پیٹ کے بل الٹے لیٹے ہوئے ہیں۔اس پرانی تکنیک کو 'پروننگ' کہتے ہیں اور سامنے آیا ہے کہ یہ کچھ مریضوں کو جنھیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو مدد دیتی ہے۔ یہ پھیپھڑوں میں زیادہ آکسیجن پہنچانے میں مدد کرتی ہے۔ لیکن اس تکنیک کے کچھ مسائل بھی ہیں۔ ( bbcBBC )کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟ آکسیجن کے بہاؤ کا بڑھنامریضوں کو اس حالت میں کئی گھنٹے رکھا جا سکتا ہے تاکہ ان کے پھیپھڑوں میں موجود مایہ کو آگے بڑھایا جا سکے جو ان کی سانس لینے میں مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ پرون لاطینی زبان کے لفظ پرونس سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے آگے کی طرف جھکنا۔ اس تکنیک کو ان کووڈ۔19 کے مریضوں پر کافی آزمایا جا رہا ہے جن کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے۔امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پھیپھڑوں اور انتہائی نگہداشت کی ادویات کے ماہر اسسٹنٹ پروفیسر پناگیس گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ ’اکثر کووڈ۔19 کے مریضوں کے پھیپھڑوں میں مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے انھیں نقصان پہنچتا ہے۔' Getty Images ’اگرچہ انھیں آکسیجن دی جا رہی ہوتی ہے لیکن کئی مرتبہ وہ کافی نہیں ہوتی۔ سو ہم یہ کرتے ہیں کہ انھیں منہ نیچے کر کے معدے کے بل لٹا دیتے ہیں تاکہ ان کے پھیپھڑے پھیل سکیں۔' ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ پھیپھڑوں کے سب سے وزنی حصے ہماری پشت پر ہوتے ہیں، اس لیے جو مریض اوپر کی طرف منہ کر کے لیٹتے ہیں ان کا وزن پشت پر ہوتا ہے اور ان کے لیے ضرورت کے مطابق آکسیجن لینا ذرا مشکل ہوتا ہے۔اس کے برعکس پروننگ کی تکنیک سے آکسیجن کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے اور یہ پھیپھڑوں کے مختلف حصوں کو بھی کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ 'اس سے واضح تبدیلی آ سکتی، ہم نے اس کا اثر کئی مریضوں میں دیکھا ہے۔'مارچ میں عالمی ادارۂ صحت نے ان کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے دن میں 12 سے 16 گھنٹے پروننگ کو تجویز کیا تھا جن کو اکیوٹ ریسپائریٹری ڈسٹریس سنڈروم (اے آر ڈی ایس) ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ بچوں کے لیے بھی یہ تکنیک استعمال کی جا سکتی ہے لیکن اس کو کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور اضافی ماہرانہ صلاحیت کی ضرورت ہے'۔ Getty Images کووڈ 19 جیسی اے آر ڈی ایس بیماری کے بارہ مریضوں پر امیریکن تھوراسک سوسائٹی کی طرف سے کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ جن مریضوں نے پرون کی حالت میں وقت نہیں گزارا ان کے پھیپھڑوں کی کام کرنے کی صلاحیت دوسروں کی نسبت کمزور تھی۔پیچیدہ تکنیک اگرچہ دیکھنے میں یہ ایک عام سا طریقۂ کار لگتا ہے لیکن پروننگ میں بہت سی ممکنہ پیچیدگیاں بھی ہیں۔ کسی بھی مریض کو اس کے معدے کے بل لٹانے میں وقت لگتا ہے اور اس کے لیے کئی تجربہ کا پروفیشنلز کی ضرورت پڑتی ہے۔ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ 'یہ آسان نہیں ہے۔ اس کو مؤثر طریقے سے کرنے کے لیے چار یا پانچ افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔' یہ ان ہسپتالوں کے لیے اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جن میں کووڈ 19 کے مریض تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کے مطابق جان ہاپکنز یونیورسٹی نے کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مدنظر پروننگ کے لیے ایک ٹیم مختص کی ہوئی ہے۔ 'تو اگر کووڈ 19 کے مریض اس انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہوں جہاں عملے کو اس پروسیجر کا تجربہ نہیں ہے تو وہ سپیشلسٹ ٹیم کو بلائیں گے جو مریض کو پرون کی حالت میں لٹائے گی۔'لیکن مریض کی لیٹنے کی حالت بدلنے سے بھی بہت سی پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں,۔ Getty Images ہماری سب سے بڑی تشویش موٹاپا ہے۔ ہمیں ان لوگوں کے متعلق احتیاط برتنے کی ضرورت ہے جنھیں سینے پر چوٹیں ہوں اور جو مریض پہلے ہی وینٹیلیشن ٹیوب یا کیتھرٹر ٹیوب پر ہوں۔'اس تکنیک کے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے دل کے زیادہ دورے پڑتے ہیں اور کئی مرتبہ اس سے ایئرویز یا سانس میں رکاوٹ بھی آ سکتی ہے۔ 'اس کا اب استعمال بہت زیادہ ہو رہا ہے'سب سے پہلے پروننگ کے فوائد کے متعلق 1970 کی دہائی کے وسط میں پتہ چلا تھا۔ لیکن ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے ہسپتالوں میں اس کا عام استعمال 1986 میں جا کر ہی عمل میں آیا۔لوسیانو گیٹینونی ان ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے سب سے پہلے اس تکنیک پر کام کیا اور کامیابی سے اسے مریضوں پر استعمال کیا۔ وہ اس وقت میلان کی یونیورسیٹا سٹاٹیل کے اعزازی پروفیسر ہیں اور اینیستھیسیولوجی اور ریسسیٹیشن کے ماہر بھی۔, پروفیسر گیٹینونی نے بی بی سی کو بتایا کہ پروننگ پر شروع شروع میں بہت سے اعتراضات کیے گئے، جن کا ذمہ دار وہ میڈیکل کمیونٹی کے بہت زیادہ قدامت پسند رویے کو ٹھہراتے ۔ Getty Images لیکن اب اس کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہےوہ کہتے ہیں کہ پروننگ کا واحد فائدہ پھیپھڑوں کو زیادہ آکسیجن پہنچانا ہی نہیں ہے۔ پروفیسر گیٹینونی کے مطابق 'جب مریض اوندھا پڑا ہوتا ہے تو اس کے پھیپھڑوں میں قوت زیادہ مساوی انداز سے پھیلتی ہے۔'ذرا اس پھیپھڑے کے متعلق سوچیں جس کو وینٹیلیٹر کی مکینیکل اینرجی دی جا رہی ہے: یہ اس طرح ہے جیسے اسے لگاتار مکے مارے جا رہے ہوں۔ صاف ظاہر ہے کہ جتنا متوازی طریقے سے قوت کو تقسیم کیا جائے گا، اتنا ہی کم نقصان ہو گا۔‘سنہ 2000 میں فرانس میں کی گئی ایک تحقیق میں پتہ چلا کہ جو مریض پرون ہوئے تھے ان کی نہ صرف آکسیجینیشن بہتر ہو گئی بلکہ ان کے بچنے کے امکانات بھی بہتر ہو گئے۔آخر کار یہ بھی اس عالمی بیماری کے خلاف لڑائی کا ایک ذریعہ ہے جس سے دسیوں ہزار افراد کی موت ہوچکی ہے اور ابھی تک اس کا کوئی علاج سامنے نہیں آیا۔ ڈاکٹر گیلیاٹسیٹوس کہتے ہیں کہ 'اس وقت جو سب سے بہتر چیز ہم کر سکتے ہیں وہ اس طرح کی تھیراپیز کو استعمال کرنا ہے'۔'

Tuesday, May 12, 2020

’ارطغل کی حلیمہ‘ مغربی لباس میں پاکستانیوں کو پسند نہ آئیں

حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے کے بعد آپ ایسے لباس کیسے پہن سکتی ہیں؟ پاکستانی صارفین نے ترکش اداکارہ پربے جا تنقید شروع کردی
لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔) 12مئی 2020ء - مقدس فاروق اعوان ) ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی پاکستان میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ارطغرل غازی کو وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی وی ہوم پر یکم رمضان سے نشر کیا جا رہا ہے۔اس ڈرامے کے کردار پاکستانیوں کے دلوں میں رچ بس گئے ہیں۔یہاں تک کہ پاکستانیوں نے ڈرامے میں نظر آنے والے کرداروں کو آئیڈلائز کرنا شروع کر دیا ہے_۔
سوشل میڈیا پر ترکش ڈرامہ نشر ہونے کے بعد پاکستان میں ڈرامے کے کردار و خصوصا حلیمہ اورارطغرل غازی کے خوب چرچے جاری ہیں۔بعد ازاں پاکستانی صارفین کی جانب سے ان اداکاراؤں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی فالو کیا جانے لگا 
ہے"۔
تاہم ڈرامے کے برعکس اداکاراؤں کو کو مغربی لباس میں دیکھ کر پاکستانیوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے_۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین نے ترکش اداکار اور اداکارہ کے اکاؤنٹ پر ان کے لباس پربے جا تنقید شروع کردی ہے۔یہی لوگ اب ترکش اداکاراؤں کو کو سوشل میڈیا پر اخلاقیات کے درس دینے لگے ہیں:۔
پاکستانی صارفین کا کہنا ہے کہ حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے کے بعد آپ ایسے لباس کیسے پہن سکتی ہیں جو حلیمہ سلطان کی شخصیت کے خلاف ہیں۔
تاہم پاکستانی صارفین یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ بنیادی طور پر وہ شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ڈرامے میں صرف ایک کردار کو نبھا رہے ہیں جن کا ان کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس تمام صورتحال پر پاکستان شوبز انڈسٹری کے لوگ بھی خاموش نہ بیٹھے۔اداکار احسن خان نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پاکستان میں لوگ سوچتے ہیں کہ یہاں پر اداکاراؤں کو ٹرول کرنا اور انہیں جج کرنا ٹھیک ہے۔کم ازکم ارطغل غازی کی کاسٹ کو تو بخشا جائے، یہ شرم ناک بات ہے:۔
کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں ترکی کے اداکاروں پر تنقید کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ہمارے اپنے اداکار کتنے پانی میں ہیں'۔

Monday, May 11, 2020

کورونا ریلیف فنڈ کے ذریعے لاک ڈائون کی وجہ سے بیروزگار ہونے والے افراد کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی،



ٹائیگر فورس ملک بھر میں متاثرین کی رجسٹریشن کر رہی ہے،جو لوگ بیروزگار ہوئے ہیں وہ ویب سائیٹ پر اپنا اندراج کروا سکتے ہیں
وزیراعظم عمران خان ک ٹویٹ
  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا ریلیف فنڈ کے ذریعے لاک ڈائون کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے افراد کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ٹائیگر فورس ملک بھر میں متاثرین کی رجسٹریشن کر رہی ہے اور جو لوگ بے روزگار ہوئے ہیں وہ ویب سائیٹ پر اپنا اندراج کروا سکتے ہیں, ۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں ایک تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں تحصیل وزیر آباد کے علاقے منصور والی میں ٹائیگر فورس کی ایک خاتون رکن بے روزگار افراد کی نشاندہی کر رہی ہے_۔

شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے سے کس نے روکا حیران کن خبر آگئی




 
May 11, 2020 | 21:03:PM
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )آج کورونا وائرس سے متعلق قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف دونوں ہی موجود نہ تھے ،شہباز شریف کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سامنے آگئی ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر صحافی ارشد وحید چوہدری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کی ڈاکٹر نےاپوزیشن لیڈر کو اجلاس میں شرکت کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔شہباز شریف کے نام ڈاکٹر کی جانب سے جاری کیے گئے ہدایت نامے میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ڈاکٹر کا کہنا تھا کی.  ” میرے علم میں آیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں آپ کی شرکت معنی رکھتی ہے لیکن آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ قومی اسمبلی کے اجلاس میں. شرکت نہ کریں۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ جیسا کہ آپ کو پتا ہے کہ آپ کی عمر پچاس سال سے زائد ہے اور آپ کینسر کے مریض ہیں۔ لہٰذا آپ کی قوت مدافت اتنی مضبوط نہیں کہ آپ کرونا وائرس کا مقابلہ کر سکیں۔جیسا کہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اس وقت کرو نا کی وبا نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس میں)50 سال سے زائد عمر کے افراد متاثر ہوکر زندگی کی بازی ہار رہے ہیں۔ہدایت نامے میں شہباز شریف کو ہدایت کی گئی کہ میں آپ کا ذاتی معالج ہونے کی بنا پر کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ لہذا آپ کا بھی فرض ہے کہ میرے دیے گئے ہدایت نامے پر عمل درآمد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کریں. . ۔

وزیراعظم نے ساجد گوندل اغواءکی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی مشیر داخلہ شہزاد اکبر کی سربراہی میں 3 رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے

                                                                               اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08...